ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مرکزی حکومت کی طرف سے نوٹ بندی کا اقدام غیر آئینی : یچوری

مرکزی حکومت کی طرف سے نوٹ بندی کا اقدام غیر آئینی : یچوری

Sun, 27 Nov 2016 11:23:09    S.O. News Service

بنگلورو۔26؍نومبر(ایس او نیوز) ملک میں کالے دھن پر پابندی لگانے کی آڑ میں مرکزی حکومت عوام کو ہراساں کرنے کی غیر اخلاقی حرکتوں پر اتر آئی ہے۔یہ بات آج سی پی ایم کے سربراہ سیتارام یچوری نے کہی۔ شہر میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک میں کالے دھن پر پابندی لگانا کون نہیں چاہتا۔ مرکزی حکومت اگر نیک نیتی سے کالے دھن کو ختم کرنے کیلئے قدم اٹھاتی تو اسے تمام حلقوں کا ساتھ ملتا اور عوام بھی حکومت کے اقدام کی جم کر ستائش کرتے، لیکن مرکزی حکومت نے اب جو فیصلہ کیا ہے وہ نہ صرف غیر آئینی ہے ،بلکہ غیر اخلاقی بھی ہے۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلے سے ملک کے عام آدمی کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اسی کے خلاف 28 نومبر کو ملک بھر میں یوم طیش منایا جارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ کالے دھن کو روکنے کے سلسلے میں مودی حکومت نے اب تک 22 فیصلے لئے ہیں ،لیکن تمام کے تمام فیصلے پارلیمان کی منظوری کے بغیر لئے گئے ہیں، اس سے ظاہر ہوتاہے کہ وزیراعظم مودی ملک میں اپنی من مانی چلانا چاہتے ہیں ۔پارلیمان اورجمہوریت پر ان کو یقین نہیں ہے۔ مودی کے من مانے فیصلوں کی وجہ سے ملک میں نراش پھیل چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کالے دھن کو روکنے کے سلسلے میں حکومت اگر کچھ قدم اٹھاتی ہے تو اسے واپس لینے کے سلسلے میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جو آواز دی ہے اس سے ان کی پارٹی کو اتفاق نہیں ہے، کیونکہ مغربی بنگال کے شاردا چٹ فنڈ گھپلے کے سلسلے میں ممتا بنرجی کو بھی جوڑا جارہا ہے ایسے میں ان کی معتبریت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، لیکن مرکزی حکومت کے اس فیصلے سے عوام کو ہونے والی پریشانیوں کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں نے جو متحدہ آواز بلند کی ہے سی پی ایم اس کے ساتھ ہے، انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کالے دھن پر روک لگانا چاہتی ہے تو پیشگی تیاریوں کے ساتھ قدم اٹھائے نہ کہ آدھی رات کو لئے گئے فیصلے عوام پر مسلط کئے جائیں۔ راتوں رات لئے گئے فیصلے کی وجہ سے آج ملک کے عوام کو جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان پریشانیوں کے ختم ہونے کا امکان بھی نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہاکہ ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں آج ہندوستان دھیرے دھیرے اپنے قدم آگے بڑھا رہا ہے، جبکہ دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک سویڈن کی معیشت میں بلانقد نظام ابھی ابھی متعارف ہوپایا ہے۔ ان حالات میں ہندوستان کے معاشی نظام کو بلانقد بنانے میں کتنا عرصہ لگ سکتاہے ، اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتاہے، لیکن وزیراعظم مودی نے ان تمام حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک کے معاشی نظام کو بلانقد بنانے کیلئے جو عاجلانہ قدم اٹھائے ہیں وہ ان کی نادانی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے پہلے بلانقد ملک سویڈن کی آبادی اتنی بھی نہیں جتنی شہر بنگلور کی ہے۔اتنی چھوٹی سی آبادی کو بلانقد معاشی نظام اپنانے میں اگر اتنا طویل عرصہ لگ سکتا ہے تو سواسو کروڑ ہندوستانیوں کو اس نظام سے ہم آہنگ کرنے میں نہ جانے کتنا وقت درکا ر ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ سویڈن میں جہاں صد فیصد خواندگی اور صد فیصد انٹرنیٹ سہولیات میسر ہیں وہاں یہ نظام عوام کے کام آسکے گا ، لیکن ہندوستان میں خواندگی کی شرح ترقی یافتہ ممالک کے مقابل کئی گنا کم ہے۔ ہندوستانی معاشرہ میں کمپیوٹر اور موبائل کا داخلہ اب بھی ایک عددی شرح میں ہے، ان حالات میں بلانقد معاشی نظام متعارف کروانے کا فیصلہ عام آدمی کو نہیں بلکہ سرمایہ دار طبقے کو فائدہ مندہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ رکھنے والی آبادی کا اوسط محض 20 فیصد ہے ، اس 20 صد آبادی کیلئے 80 فیصد کو پریشانیوں میں مبتلا کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ ہر طرح کی تکنیکی سہولیات سے آراستہ ملک امریکہ میں بھی 30 فیصد سے زیادہ معاشی لین دین بشکل نقد ہوتا ہے ، ان حالات میں راتوں رات وزیر اعظم مودی بلانقد معاشی نظام متعارف کروانے کا اعلان کرتے ہیں تو اس اعلان کو غیر حقیقت پسندانہ نہیں تو اور کیا کہا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی سے اس کی منظم منصوبہ بندی کی جائے تو آنے والے پندرہ بیس سالوں میں معاشرے میں نقد کے چلن کو کافی حد تک کم کیاجاسکتا ہے، پورے طور پر ختم کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔


Share: